مبئی:16؍ستمبر(ایس او نیوز؍پریس ریلیز) انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والے تبلیغی جماعت سے وابستہ 12 احباب جن پر پاسپورٹ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرکے غیر قانونی طریقہ سےہندوستان میں داخل ہونے،کرونا وائرس پھیلانے، اقدام قتل دفعہ 307 اور دفعہ(2 ) 304 انڈین پینل کورٹ دفعہ 14 اور سیکشن کوڈ 19 سینٹرل ایکٹ کے الزام میں گرفتار کرکے ان پر مقدمہ درج کیا گیا تھالیکن جمعیۃ علماء مہا راشٹر نے انہیں جلد ہی ضمانت پر رہا کرا لیا تھاچند مہینہ سے یہ مقدمہ التواء کا شکار تھا استغاثہ کی جانب سے عدالت میں چارج شیٹ کے طور پر داخل کردہ دستاویزات کےجرم ثابت کرنے کے لئے ناکافی ہونے کی وجہ سے گذشتہ تاریخ میں دفاع نےملزمین کے حق میں باندرہ مجسٹریٹ عدالت میں ڈسچارج اپلیکیشن داخل کیا تھا آج عدالت نے مقدمہ کی سماعت کے لئے 28 ستمبر کی تاریخ مقرر کی ہے ، اس بات کی اطلاع آج یہاں اس مقدمہ کو مفت قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے صدر مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی نے دی ہے۔
واضح رہے کہ 29 فروری 2020 کو تبلیغی جماعت کے طریقہ کار کو دیکھنے کے لئے انڈونیشا کا ایک وفد انڈیا کے مرکز نظام الدین دہلی آیاچند دن قیام کے بعد ۶؍مارچ کو انڈو نیشاء کا وہ وفد بذریعہ ٹرین ممبئی پہونچا اور نوی ممبئی کے مختلف علاقوں میںقیام پذیر رہا،ملک میںاچانک لاک ڈائون کے اعلان اور پھر مرکز کا معاملہ سامنے آنے کے بعد انہیں حراست میں لے کرکے باندرہ میں کورنٹائن کر دیا گیاتھا،ا ن کا ٹسٹ کرایا گیا جن میں سے10 لوگوں کی رپورٹ نگیٹیو آئی،کورنٹائن کی مدت مکمل ہوتے ہی پولیں نے انہیں گرفتار کرکے ان پر مختلف الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔ جمعیۃ لیگل سیل نےممبئی سیشن کورٹ نے ان کی ضمانت منظور کرائی تھی ۔
مزید تفصیلات دیتے ہوئے مولانا ندیم صدیقی نے کہا کہ اب جبکہ اورنگ آباد بنچ ممبئی ہائی کورٹ کا تبلیغی جماعت کے حق میں تاریخی فیصلہ آچکا ہے تو اسی کو بنیاد بناتے ہوئے ملک اور ریاست مہا راشٹر میں تبلیغی جماعت پر درج کردہ تمام ایف آئی آر و مقدمات کو خارج کر دینا چاہئے ،لیکن افسوس ایسا نہیں ہو رہا ہے پولیس نے باندرہ کورٹ میں جو چارج شیٹ داخل کی ہے وہ سراسر جھوٹ پر مبنی ہے اس میں لگائے گئے تمام الزامات بے بنیاد ہیں اور کوئی ایسا خاطر خواہ ثبوت نہیں ہے جس کی وجہ سے تبلیغی جماعت کے اراکین کو قصور وار ٹھرایا جاسکے ،اسی لئے جمعیۃ علما مہا راشٹر کی لیگل ٹیم انڈونیشائی تبلیغی جماعت پر درج کردہ ایف آئی آر سر ے سے خارج کرنے کے لئے باندرہ مجسٹریٹ کورٹ میں ڈسچارج کی درخواست داخل کی ہے ۔جس کی سماعت کے لئے آج عدالت نے 28؍ ستمبر کی تاریخ متعین کی ہے ۔جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی جا نب سے اس مقدمہ کی پیروی جمعیۃ لیگل سیل سکریٹری ایڈوکیٹ پٹھان تہورخان کی نگرانی میں ایڈوکیٹ عشرت علی خان و دیگر کررہے ہیں ۔